نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھی
مگر وہ لمحے بہت مختصر تھے فانی بھی
کھلی ہے آنکھ کہاں کون موڑ ہے یارو
دیار خواب کی باقی نہیں نشانی بھی
رگوں میں ریت کی اک اور تہ جمی دیکھو
کہ پہلے جیسی نہیں خون میں روانی بھی
بھٹک رہے ہیں تعاقب میں اب سرابوں کے
ملا نہ جن کو سمندر سے بوند پانی بھی
زمیں بھی ہم سے بہت دور ہوتی جاتی ہے
ڈرا رہی ہے خلاؤں کی بیکرانی بھی
طویل ہونے لگی ہیں اسی لیے راتیں
کہ لوگ سنتے سناتے نہیں کہانی بھی
شہریار
Nishat-e-gham bhi mila ranj-e-shaadmani bhi
Magar woh lamhe bahut mukhtasar the faani bhi
Khuli hai aankh kahan kaun mod hai yaaro
Diyar-e-khwab ki baqi nahin nishani bhi
Ragon mein ret ki ek aur teh jami dekho
Ke pehle jaisi nahin khoon mein rawani bhi
Bhatak rahe hain ta'aqub mein ab sarabon ke
Mila na jin ko samundar se boond pani bhi
Zameen bhi hum se bahut door hoti jaati hai
Dara rahi hai khalaon ki be-kirani bhi
Taweel hone lagi hain isi liye raatein
Ke log sunte sunate nahin kahani bhi
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں