شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو
سیاہ رات نے بے حال کر دیا مجھ کو
کہ طول دے نہیں پایا کسی کہانی کو
بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو
قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو
اماں کی جا مجھے اے شہر تو نے دی تو ہے
بھلا نہ پاؤں گا صحرا کی بیکرانی کو
جو چاہتا ہے کہ اقبال ہو سوا تیرا
تو سب میں بانٹ برابر سے شادمانی کو
شہریار
Shadeed pyaas thi phir bhi chhua na paani ko
Main dekhta raha darya teri rawani ko
Siyah raat ne behaal kar diya mujh ko
Ke tool de nahin paaya kisi kahani ko
Bajaye mere kisi aur ka taqarar ho
Qabool jo kare khwabon ki paasbaani ko
Aman ki ja mujhe ae shehar tu ne di to hai
Bhala na paunga sehra ki bekarani ko
Jo chahta hai ke Iqbal ho sawa tera
To sab mein baant barabar se shaadmaani ko
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں