شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے
رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
کل یوں تھا کہ یہ قید زمانی سے تھے بیزار
فرصت جنہیں اب سیر مکانی سے نہیں ہے
چاہا تو یقیں آئے نہ سچائی پہ اس کی
خائف کوئی گل عہد خزانی سے نہیں ہے
دہراتا نہیں میں بھی گئے لوگوں کی باتیں
اس دور کو نسبت بھی کہانی سے نہیں ہے
کہتے ہیں مرے حق میں سخن فہم بس اتنا
شعروں میں جو خوبی ہے معانی سے نہیں ہے
شہریار
Shikwa koi darya ki rawani se nahin hai
Rishta hi meri pyaas ka paani se nahin hai
Kal yun tha ke yeh qaid-e-zamani se the bezaar
Fursat jinhein ab sair-e-makaani se nahin hai
Chaha to yaqeen aaye na sachchai pe uski
Khaif koi gul ahd-e-khazani se nahin hai
Dohrata nahin main bhi gaye logon ki baatein
Is daur ko nisbat bhi kahani se nahin hai
Kehte hain mere haq mein sukhan-fehm bas itna
Sheron mein jo khoobi hai maani se nahin hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں