سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا
یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا
یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفا
یہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا
کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے
یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا
بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سے
تو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا
زمیں نے کر لیا کیا تیرگی سے سمجھوتا
خیال چھوڑ چکے کیا چراغ جلنے کا
شہریار
Siyah raat nahin leti naam dhalne ka
Yahi to waqt hai suraj tere nikalne ka
Yahan se guzre hain guzrenge hum se ahl-e-wafa
Yeh rasta nahin parchhaiyon ke chalne ka
Kahin na sab ko samandar baha ke le jaaye
Yeh khel khatam karo kashtiyan badalne ka
Bigad gaya jo yeh naqsha hawas ke haathon se
To phir kisi ke sambhale nahin sambhalne ka
Zameen ne kar liya kya tareegi se samjhauta
Khayal chhod chuke kya chiragh jalne ka
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں