وہ جو آسماں پہ ستارہ ہے
اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو
اسے اپنے ہونٹوں سے چوم لو
اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ لو
کہ اسی پہ حملہ ہے رات کا
شہریار
Wo jo aasman pe sitara hai
Usey apni aankhon se dekh lo
Usey apne honton se choom lo
Usey apne haathon se tod lo
Keh isi pe hamla hai raat ka
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں