شہریار — شاعر کی تصویر

ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں

ترے قریب جو چپکے کھڑا ہوا تھا میں
بتاؤں کیسے کہ خود سے ڈرا ہوا تھا میں
جہاں سے آگے کہیں ہم بچھڑنے والے تھے
پلٹ کے دیکھا وہیں پر رکا ہوا تھا میں
اجاڑ شہر ہوں اور دیکھنے کے قابل ہوں
سنا گیا ہے کہ اک دن بسا ہوا تھا میں
بلا رہی تھی بہت ایک لمبی نیند مجھے
نہیں یہ یاد کہ کتنا جگا ہوا تھا میں
فنا سے گزروں تو کچھ آشکار ہو شاید
کہ زندگی میں معما بنا ہوا تھا میں

Tere qareeb jo chupke khada hua tha main

Tere qareeb jo chupke khada hua tha main
Bataun kaise ke khud se dara hua tha main
Jahan se aage kahin hum bichhadne wale the
Palat ke dekha wahin par ruka hua tha main
Ujaad shahar hoon aur dekhne ke qabil hoon
Suna gaya hai ke ik din basa hua tha main
Bula rahi thi bahut ek lambi neend mujhe
Nahin ye yaad ke kitna jaga hua tha main
Fana se guzrun to kuchh aashkar ho shayad
Ke zindagi mein muamma bana hua tha main

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام