تیرے سوا بھی کوئی مجھے یاد آنے والا تھا
میں ورنہ یوں ہجر سے کب گھبرانے والا تھا
جان بوجھ کر سمجھ کر میں نے بھلا دیا
ہر وہ قصہ جو دل کو بہلانے والا تھا
مجھ کو ندامت بس اس پر ہے لوگ بہت خوش ہیں
اس لمحے کو کھو کر جو پچھتانے والا تھا
یہ تو خیر ہوئی دریا نے رخ تبدیل کیا
میرا شہر بھی اس کی زد میں آنے والا تھا
اک اک کر کے سب رستے کتنے سنسان ہوئے
یاد آیا میں لمبے سفر پر جانے والا تھا
شہریار
Tere siwa bhi koi mujhe yaad aane wala tha
Main warna yoon hijr se kab ghabrane wala tha
Jaan boojh kar samajh kar main ne bhula diya
Har woh qissa jo dil ko behlane wala tha
Mujh ko nadamat bas is par hai log bahut khush hain
Is lamhe ko kho kar jo pachhtane wala tha
Yeh to khair hui darya ne rukh tabdeel kiya
Mera sheher bhi us ki zad mein aane wala tha
Ek ek kar ke sab raste kitne sunsaan hue
Yaad aaya main lambe safar par jaane wala tha
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں