تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا
آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا
دیکھنے کے لیے اک چہرہ بہت ہوتا ہے
آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا
میری تنہائی کی رسوائی کی منزل آئی
وصل کے لمحے سے میں ہجر کی شب بدلوں گا
شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے
سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا
تاکہ محفوظ رہے میرے قلم کی حرمت
سچ مجھے لکھنا ہے میں حسن کو سچ لکھوں گا
شہریار
Tere waade ko kabhi jhoot nahin samjunga
Aaj ki raat bhi darwaza khula rakhunga
Dekhne ke liye ek chehra bahut hota hai
Aankh jab tak hai tujhe sirf tujhe dekhunga
Meri tanhai ki ruswai ki manzil aayi
Wasl ke lamhe se main hijr ki shab badlunga
Sham hote hi khuli sadkon ki yaad aati hai
Sochta roz hoon main ghar se nahin niklunga
Taake mehfooz rahe mere qalam ki hurmat
Sach mujhe likhna hai main husn ko sach likhunga
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں