تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو
کب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو
میرے حصے کی زمیں بنجر تھی میں واقف نہ تھا
بے سبب الزام میں دیتا رہا برسات کو
کیسی بستی تھی جہاں پر کوئی بھی ایسا نہ تھا
منکشف میں جس پہ کرتا اپنے دل کی بات کو
ساری دنیا کے مسائل یوں مجھے درپیش ہیں
تیرا غم کافی نہ ہو جیسے گزر اوقات کو
شہریار
Tu kahan hai tujh se ek nisbat thi meri zaat ko
Kab se palkon par uthaaye phir raha hoon raat ko
Mere hisse ki zameen banjar thi main waqif na tha
Be-sabab ilzam main deta raha barsaat ko
Kaisi basti thi jahan par koi bhi aisa na tha
Munkashif main jis pe karta apne dil ki baat ko
Saari duniya ke masail yoon mujhe darpesh hain
Tera gham kaafi na ho jaise guzar auqaat ko
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں