شہریار — شاعر کی تصویر

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے

وہ بے وفا ہے ہمیشہ ہی دل دکھاتا ہے
مگر ہمیں تو وہی ایک شخص بھاتا ہے
نہ خوش گمان ہو اس پر تو اے دل سادہ
سبھی کو دیکھ کے وہ شوخ مسکراتا ہے
جگہ جو دل میں نہیں ہے مرے لیے نہ سہی
مگر یہ کیا کہ بھری بزم سے اٹھاتا ہے
ترے کرم کی یہی یادگار باقی ہے
یہ ایک داغ جو اس دل میں جگمگاتا ہے
عجیب چیز ہے یہ وقت جس کو کہتے ہیں
کہ آنے پاتا نہیں اور بیت جاتا ہے

Woh bewafa hai hamesha hi dil dukhata hai

Woh bewafa hai hamesha hi dil dukhata hai
Magar hamein to wahi ek shakhs bhaata hai
Na khush-gumaan ho us par to aye dil-e-saada
Sabhi ko dekh ke woh shokh muskurata hai
Jagah jo dil mein nahin hai mere liye na sahi
Magar yeh kya ke bhari bazm se uthata hai
Tere karam ki yahi yaadgaar baqi hai
Yeh ek daagh jo is dil mein jagmagata hai
Ajeeb cheez hai yeh waqt jis ko kehte hain
Ke aane paata nahin aur beet jaata hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام