شہریار — شاعر کی تصویر

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
حد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے
ہر ایک جسم روح کے عذاب سے نڈھال ہے
ہر ایک آنکھ شبنمی ہر ایک دل فگار ہے
ہمیں تو اپنے دل کی دھڑکنوں پہ بھی یقیں نہیں
خوشا وہ لوگ جن کو دوسروں پہ اعتبار ہے
نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی شکل ہے کوئی
اک ایسی شے کا کیوں ہمیں ازل سے انتظار ہے

Ye kya jagah hai dosto ye kaun sa dayaar hai

Ye kya jagah hai dosto ye kaun sa dayaar hai
Hadd-e-nigah tak jahan ghubaar hi ghubaar hai
Har ek jism rooh ke azaab se nidhaal hai
Har ek aankh shabnami har ek dil figaar hai
Hamein to apne dil ki dhadkano pe bhi yaqeen nahin
Khusha wo log jin ko doosron pe aitbaar hai
Na jis ka naam hai koi na jis ki shakal hai koi
Ek aisi shai ka kyun hamein azal se intizaar hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام