شہریار — شاعر کی تصویر

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا
چہروں کے سمندر سے گزرتے رہے پھر بھی
اک عکس کو آئینہ ترستا ہے ہمارا
ان لوگوں سے کیا کہیے کہ کیا بیت رہی ہے
احوال مگر تو تو سمجھتا ہے ہمارا
ہر موڑ پہ پڑتا ہے ہمیں واسطہ اس سے
دنیا سے الگ کہنے کو رستہ ہے ہمارا

Yeh jab hai ke ek khwaab se rishta hai hamara

Yeh jab hai ke ek khwaab se rishta hai hamara
Din dhalte hi dil doobne lagta hai hamara
Chehron ke samandar se guzarte rahe phir bhi
Ek aks ko aaina tarasta hai hamara
In logon se kya kahiye ke kya beet rahi hai
Ahwal magar tu to samajhta hai hamara
Har mod pe padta hai hamein wasita is se
Duniya se alag kehne ko rasta hai hamara

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام