یہ کیا ہے محبت میں تو ایسا نہیں ہوتا
میں تجھ سے جدا ہو کے بھی تنہا نہیں ہوتا
اس موڑ سے آگے بھی کوئی موڑ ہے ورنہ
یوں میرے لیے تو کبھی ٹھہرا نہیں ہوتا
کیوں میرا مقدر ہے اجالوں کی سیاہی
کیوں رات کے ڈھلنے پہ سویرا نہیں ہوتا
یا اتنی نہ تبدیل ہوئی ہوتی یہ دنیا
یا میں نے اسے خواب میں دیکھا نہیں ہوتا
سنتے ہیں سبھی غور سے آواز جرس کو
منزل کی طرف کوئی روانہ نہیں ہوتا
دل ترک تعلق پہ بھی آمادہ نہیں ہے
اور حق بھی ادا اس سے وفا کا نہیں ہوتا
شہریار
Yeh kya hai mohabbat mein to aisa nahin hota
Main tujh se juda ho ke bhi tanha nahin hota
Is mod se aage bhi koi mod hai warna
Yun mere liye to kabhi thehra nahin hota
Kyun mera muqaddar hai ujjalon ki siyahi
Kyun raat ke dhalne pe savera nahin hota
Ya itni na tabdeel hui hoti yeh duniya
Ya main ne use khwab mein dekha nahin hota
Sunte hain sabhi ghaur se aawaz-e-jaras ko
Manzil ki taraf koi rawana nahin hota
Dil tark-e-taluq pe bhi aamada nahin hai
Aur haq bhi ada is se wafa ka nahin hota
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں