یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے
اک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتے
اے شہر ترا نام و نشاں بھی نہیں ہوتا
جو حادثے ہونے تھے اگر ہو گئے ہوتے
ہر بار پلٹتے ہوئے گھر کو یہی سوچا
اے کاش کسی لمبے سفر کو گئے ہوتے
ہم خوش ہیں ہمیں دھوپ وراثت میں ملی ہے
اجداد کہیں پیڑ بھی کچھ بو گئے ہوتے
کس منہ سے کہیں تجھ سے سمندر کے ہیں حق دار
سیراب سرابوں سے بھی ہم ہو گئے ہوتے
شہریار
Yeh qafile yaadon ke kahin kho gaye hote
Ik pal bhi agar bhool se hum so gaye hote
Aye shehar tera naam-o-nishaan bhi nahin hota
Jo hadse hone the agar ho gaye hote
Har baar palatte hue ghar ko yahi socha
Aye kaash kisi lambe safar ko gaye hote
Hum khush hain humein dhoop wirasat mein mili hai
Ajdad kahin ped bhi kuchh bo gaye hote
Kis munh se kahein tujh se samandar ke hain haqdar
Sairab sarabon se bhi hum ho gaye hote
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں