زمیں سے تا بہ فلک دھند کی خدائی ہے
ہوائے شہر جنوں کیا پیام لائی ہے
پیا ہے زہر بھی آب حیات بھی لیکن
کسی نے تشنگیٔ جسم و جاں بجھائی ہے
یہ کوئی ضد ہے کہ ہے رسم عاشقی ہی یہی
ہوا کے رخ پہ جو شمع وفا جلائی ہے
یہ کم نہیں کہ طرف دار ہیں مرے کچھ لوگ
ہنر کی ورنہ یہاں کس نے داد پائی ہے
مسافران رہ شوق اور تیز قدم
کہ چند گام ہی اب منزل جدائی ہے
شہریار
Zameen se ta ba falak dhund ki khudai hai
Hawa-e-shehr junoon kya payaam laai hai
Piya hai zehr bhi aab-e-hayaat bhi lekin
Kisi ne tashnagi-e-jism-o-jaan bujhai hai
Ye koi zid hai ke hai rasm-e-aashiqi hi yehi
Hawa ke rukh pe jo shama-e-wafa jalayi hai
Ye kam nahin ke taraf-daar hain mere kuchh log
Hunar ki warna yahan kis ne daad paai hai
Musafiraan-e-rah-e-shauq aur tez qadam
Ke chand gaam hi ab manzil-e-judai hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں