شہریار — شاعر کی تصویر

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں

زندگی جب بھی تری بزم میں لاتی ہے ہمیں
یہ زمیں چاند سے بہتر نظر آتی ہے ہمیں
سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیں
دن ڈھلے یوں تری آواز بلاتی ہے ہمیں
یاد تیری کبھی دستک کبھی سرگوشی سے
رات کے پچھلے پہر روز جگاتی ہے ہمیں
ہر ملاقات کا انجام جدائی کیوں ہے
اب تو ہر وقت یہی بات ستاتی ہے ہمیں

Zindagi jab bhi teri bazm mein laati hai hamein

Zindagi jab bhi teri bazm mein laati hai hamein
Ye zameen chaand se behtar nazar aati hai hamein
Surkh phoolon se mahak uthti hain dil ki raahein
Din dhale yoon teri aawaaz bulaati hai hamein
Yaad teri kabhi dastak kabhi sargoshi se
Raat ke pichhle pahar roz jagaati hai hamein
Har mulaqat ka anjaam judai kyun hai
Ab to har waqt yehi baat sataati hai hamein

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام