جب ترے نین مسکراتے ہیں
زیست کے رنج بھول جاتے ہیں
کیوں شکن ڈالتے ہو ماتھے پر
بھول کر آ گئے ہیں جاتے ہیں
کشتیاں یوں بھی ڈوب جاتی ہیں
ناخدا کس لیے ڈراتے ہیں
اک حسیں آنکھ کے اشارے پر
قافلے راہ بھول جاتے ہیں
Jab tere nain muskurāte hain
Zīst ke ranj bhool jāte hain
Kyon shikan Daalte ho māthe par
Bhool kar ā ga'e hain jāte hain
Kashtiyān yūn bhī Doob jātī hain
NāKHudā kis liye Darāte hain
Ik hasīn āñkh ke ishāre par
Qāfile rāh bhool jāte hain
عبدالحمیدؔ عدم کا اصل نام عبدالحمید تھا، اُن کا تخلص “عدم” تھا اور وہ ۱۰ اپریل ۱۹۱۰ء کو ضلع گجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدا...
مکمل تعارف پڑھیں