زخم دل کے اگر سیے ہوتے
اہل دل کس طرح جیے ہوتے
وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی
کاش تھوڑی سی ہم پیے ہوتے
آرزو مطمئن تو ہو جاتی
اور بھی کچھ ستم کیے ہوتے
لذت غم تو بخش دی اس نے
حوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے
عبدالحمیدعدم
Zakhm dil ke agar siye hote
Ahle dil kis tarah jiye hote
Wo mile bhi to ik jhijhak si rahi
Kaash thodi si hum piye hote
Aarzoo mutma'in to ho jaati
Aur bhi kuch sitam kiye hote
Lazzat-e-gham to bakhsh di usne
Hausle bhi Adam diye hote
عبدالحمیدؔ عدم کا اصل نام عبدالحمید تھا، اُن کا تخلص “عدم” تھا اور وہ ۱۰ اپریل ۱۹۱۰ء کو ضلع گجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد ازاں وہ اسلامیہ ہائی اسکول بھاٹی گیٹ، لاہور سے میٹرک کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے تک پہنچے۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے ملٹری اکاونٹس ڈپارٹمنٹ میں کلرک کی حیثیت سے آغاز ک...
مکمل تعارف پڑھیں