عبدالحمیدعدم — شاعر کی تصویر

زلف برہم سنبھال کر چلئے — عبدالحمیدعدم

شاعر

تعارف شاعری

زلف برہم سنبھال کر چلئے

زلف برہم سنبھال کر چلئے
راستہ دیکھ بھال کر چلئے
موسم گل ہے اپنی بانہوں کو
میری بانہوں میں ڈال کر چلئے
مے کدے میں نہ بیٹھیے تاہم
کچھ طبیعت بحال کر چلئے
کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہوگا
حرج کیا ہے سوال کر چلئے
ہے اگر قتل عام کی نیت
جسم کی چھب نکال کر چلئے
کسی نازک بدن سے ٹکرا کر
کوئی کسب کمال کر چلئے
یا دوپٹہ نہ لیجئے سر پر
یا دوپٹہ سنبھال کر چلئے
یار دوزخ میں ہیں مقیم عدمؔ
خلد سے انتقال کر چلئے

Zulf-e-barham sambhāl kar chaliye

Zulf-e-barham sambhāl kar chaliye
Rāsta dekh bhāl kar chaliye
Mausam-e-gul hai apnī bāñhon ko
Merī bāñhon mein Daal kar chaliye
Mai-kade mein na baiThi'e tāham
Kuchh tabī'at ba-hāl kar chaliye
Kuchh na denge to kyā ziyān hogā
Harj kyā hai sawāl kar chaliye
Hai agar qatl-e-ām kī nīyat
Jism kī chhab nikāl kar chaliye
Kisī nāzuk badan se Takrā kar
Koī kasb-e-kamāl kar chaliye
Yā dupatta na lījiye sar par
Yā dupatta sambhāl kar chaliye
Yār dozakh mein hain muqīm 'Adam'
KHuld se intiqāl kar chaliye

شاعر کے بارے میں

عبدالحمیدعدم

عبدالحمیدؔ عدم کا اصل نام عبدالحمید تھا، اُن کا تخلص “عدم” تھا اور وہ ۱۰ اپریل ۱۹۱۰ء کو ضلع گجرانوالہ کے گاؤں تلونڈی موسیٰ خان میں پیدا ہوئے۔ ابتدا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام