ادا جعفری — شاعر کی تصویر

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے — ادا جعفری

شاعر

تعارف شاعری

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے

چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے
روز و شب کے انہی ویرانوں میں
خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے
ناز پرور وہ تبسم سے کہیں
سلسلے درد کے ملتے ہوں گے
ہم بھی خوشبو ہیں صبا سے کہیو
ہم نفس روز نہ ملتے ہوں گے
صبح زنداں میں بھی ہوتی ہوگی
پھول مقتل میں بھی کھلتے ہوں گے
اجنبی شہر کی گلیوں میں اداؔ
دل کہاں لوگ ہی ملتے ہوں گے

Chaak dil bhi kabhi sulte honge

Chaak dil bhi kabhi sulte honge
Log bichhde hue milte honge
Roz o shab ke inhi veeranon mein
Khwab ke phool to khilte honge
Naaz parvar wo tabassum se kahein
Silsile dard ke milte honge
Hum bhi khushboo hain saba se kahiyo
Hum nafas roz na milte honge
Subh-e-zindaan mein bhi hoti hogi
Phool maqtal mein bhi khilte honge
Ajnabi shahar ki galiyon mein Ada
Dil kahan log hi milte honge

شاعر کے بارے میں

ادا جعفری

ادا جعفری، جن کا اصل نام عزیز جہاں تھا، 22 اگست 1924ء کو بدایوں، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ تین سال کی عمر میں ان کے والد مولوی بدرالحسن کے ا...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام