search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
اختر شمار
›
شاعری
اختر شمار کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
دن گزرتے جا رہے ہیں
حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے
خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے
اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا
پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے
وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا
اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے
اس کی چاہ میں نام نہیں آنے والا
ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے
یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے
ابھی دل میں گونجتی آہٹیں مرے ساتھ ہیں
ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف
ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون
ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا
لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
شاعر کے بارے میں
About Poet
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ دن گزرتے جا رہے ہیں
‹ حصار قریۂ آزار سے نکلتے ہوئے
‹ خواہش جادۂ راحت سے نکلتا کیسے
‹ اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا
‹ پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے
‹ وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا