کس اور لے چلی ہے ہوائے نمو مجھے
ملتا ہے گام گام اک آشفتہ رو مجھے
کہنا تو اور کچھ تھا دم گفتگو مجھے
اک اور سمت ڈال گئے رنگ و بو مجھے
دونوں ہی درد کیش تھے دونوں ہی بیش تھے
میں تجھ کو کم سمجھتا رہا اور تو مجھے
بزم نمود و نام سجی شور سا اٹھا
میں چل دیا کہ راس نہ تھی ہاؤ ہو مجھے
اخترؔ بڑی کڑی تھی مسافت اور اس کے بعد
مجھ پر کھلا کہ اپنی ہی تھی جستجو مجھے
اختر عثمان
kis aur le chali hai hawa-e-namo mujhe
milta hai gaam gaam ek aashufta-ru mujhe
kehna to aur kuch tha dam-e-guftugu mujhe
ek aur simt daal gaye rang o bu mujhe
dono hi dard-kesh the dono hi besh the
main tujh ko kam samajhta raha aur tu mujhe
bazm-e-namud o naam saji shor sa utha
main chal diya ki raas na thi hao hu mujhe
Akhtar, badi kadi thi musafat aur is ke baad
mujh par khula ki apni hi thi justuju mujhe
اختر عثمان عہدِ حاضر کے اُن اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو شاعری کو سماجی شعور، فکری گہرائی اور داخلی کرب کے نئے زاویے عطا کیے۔ ان کا اصل نام اختر محمود ہے اور وہ 4 اپریل 1969ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا آبائی تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی راولپنڈی میں گزری جہاں انہوں نے سینٹ پالز کیمبرج اسکول سے ...
مکمل تعارف پڑھیں