شعور فاصلۂ خیر و شر دیا ہے مجھے
تری نگاہ نے تبدیل کر دیا ہے مجھے
مرا مقام کہیں اور تھا پہ لگتا ہے
کسی نے رو میں کہیں اور دھر دیا ہے مجھے
بس اک گلہ سا تری چشم نیم باز سے ہے
کہ اس نے وقت بہت مختصر دیا ہے مجھے
مجھے خبر نہیں سودا ہے یا تجسس ہے
مرے خمیر نے کیا درد سر دیا ہے مجھے
میں اپنی راہ بنا لوں گا کوہساروں میں
خرد نے کوہ کنی کا ہنر دیا ہے مجھے
اختر عثمان
Shaoor-e-fasila-e-khair-o-shar diya hai mujhe
Teri nigah ne tabdeel kar diya hai mujhe
Mera muqaam kahin aur tha pe lagta hai
Kisi ne rau mein kahin aur dhar diya hai mujhe
Bas ek gila sa teri chashm-e-neem-baaz se hai
Ke us ne waqt bahut mukhtasar diya hai mujhe
Mujhe khabar nahin sauda hai ya tajassus hai
Mere khameer ne kya dard-e-sar diya hai mujhe
Main apni raah bana loon ga kohsaron mein
Khird ne koh-kani ka hunar diya hai mujhe
اختر عثمان عہدِ حاضر کے اُن اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو شاعری کو سماجی شعور، فکری گہرائی اور داخلی کرب کے نئے زاویے عطا کیے۔ ان کا اصل نام اختر محمود ہے اور وہ 4 اپریل 1969ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا آبائی تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی راولپنڈی میں گزری جہاں انہوں نے سینٹ پالز کیمبرج اسکول سے ...
مکمل تعارف پڑھیں