وہ بھی نہ کھلا بستۂ پندار تھے ہم بھی
خاموش تھا وہ صورت دیوار تھے ہم بھی
حد بندیٔ احساس رہی عمر معین
اور دائرۂ کار میں پرکار تھے ہم بھی
اے نرگس وا چشم ترے اوج کے دن ہیں
تیری ہی طرح دیدۂ بے دار تھے ہم بھی
ہم بھی تھے انہی میں جو زباں سے نہ پھرے تھے
پھر خلق نے دیکھا کہ سر دار تھے ہم بھی
آجر سے جو اجرت ہمیں پہنچی یہی پہنچی
جب قصر گرا تھا تہہ دیوار تھے ہم بھی
اختر عثمان
Woh bhi na khula basta-e-pindaar the hum bhi
Khamoosh tha woh soorat-e-deewar the hum bhi
Had-bandi-e-ehsaas rahi umr-e-moin
Aur daayera-e-kaar mein parkaar the hum bhi
Ae nargis-e-wa-chashm tere auj ke din hain
Teri hi tarah deeda-e-bedaar the hum bhi
Hum bhi the unhin mein jo zabaan se na phire the
Phir khalq ne dekha ke sar-e-daar the hum bhi
Aajar se jo ujrat hamein pahunchi yahi pahunchi
Jab qasr gira tha teh-e-deewar the hum bhi
اختر عثمان عہدِ حاضر کے اُن اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید اردو شاعری کو سماجی شعور، فکری گہرائی اور داخلی کرب کے نئے زاویے عطا کیے۔ ان کا اصل نام اختر محمود ہے اور وہ 4 اپریل 1969ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کا آبائی تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ ان کی ابتدائی زندگی راولپنڈی میں گزری جہاں انہوں نے سینٹ پالز کیمبرج اسکول سے ...
مکمل تعارف پڑھیں