داغ دہلوی — شاعر کی تصویر

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے — داغ دہلوی

شاعر

تعارف شاعری

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
دوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf woh ishq mein paaye hain ke ji jaanta hai

Lutf woh ishq mein paaye hain ke ji jaanta hai
Ranj bhi aise uthaye hain ke ji jaanta hai
Jo zamane ke sitam hain woh zamana jaane
Tu ne dil itne sataye hain ke ji jaanta hai
Tum nahin jaante ab tak yeh tumhare andaaz
Woh mere dil mein samaye hain ke ji jaanta hai
Inhin qadmon ne tumhare inhin qadmon ki qasam
Khak mein itne milaye hain ke ji jaanta hai
Dosti mein teri dar-parda hamare dushman
Is qadar apne paraye hain ke ji jaanta hai

شاعر کے بارے میں

داغ دہلوی

جس کی غزلوں نے اردو زبان کو محبت کی مٹھاس، لہجے کی نزاکت اور بیان کی شوخی بخشی نواب مرزا خان داغ دہلوی۔ 25مئی 1831 کو دہلی میں پیدا ہونے والے داغ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام