فرحت عباس شاہ — شاعر کی تصویر

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے — فرحت عباس شاہ

شاعر

تعارف شاعری

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے

وہی ہے جبر ، وہی بے بسی ہماری ہے
وہی خدا ہیں ، وہی بندگی ہماری ہے
نہ دکھ ہی بدلے ، نہ دکھ دینے والے بدلے ہیں
وہی نصیب ، وہی زندگی ہماری ہے
ہے کب کسی کے کہیں آنے جانے سے بدلی
یہ مستقل ہے ، یہ لاچارگی ہماری ہے
ہمیں پتہ ہے ، نہیں ہے بہادری اسکی
ہمیں پتہ ہے کہ یہ بزدلی ہماری ہے
عدالتیں ہوں یا سرکار ہو یا کتے ہوں
سبھی ہے انکا ، فقط شاعری ہماری ہے

Wohi hai jabr, wohi be-basi humari hai

Wohi hai jabr, wohi be-basi humari hai
Wohi Khuda hain, wohi bandagi humari hai
Na dukh hi badle, na dukh dene wale badle hain
Wohi naseeb, wohi zindagi humari hai
Hai kab kisi ke kahin aane jaane se badli
Yeh mustaqil hai, yeh lachaargi humari hai
Hamein pata hai, nahin hai bahaduri uski
Hamein pata hai ke yeh buzdili humari hai
Adalaten hon ya sarkar ho ya kutte hon
Sabhi hai unka, faqat shayari humari hai

شاعر کے بارے میں

فرحت عباس شاہ

فرحت عباس شاہ پاکستان کے ممتاز، ہم عصر اور ہمہ جہت شاعر، ادیب، فلسفی اور سماجی دانش ور ہیں جنہیں 23 مارچ 2023 کو حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی و فک...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام