افتخارعارف — شاعر کی تصویر

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں — افتخارعارف

شاعر

تعارف شاعری

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں
آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ورنہ
آگے اور بہت آگے تک جا سکتا تھا میں
چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر
ایک لہر سے کیا طوفان اٹھا سکتا تھا میں
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں
جیسے سب لکھتے رہتے ہیں غزلیں نظمیں گیت
ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں

Jaisa Hoon Waisa Kyun Hoon Samjha Sakta Tha Main

Jaisa hoon waisa kyun hoon samjha sakta tha main
Tum ne poochha to hota batla sakta tha main
Aasooda rehne ki khwahish maar gayi warna
Aage aur bahut aage tak ja sakta tha main
Chhoti moti ek lehar hi thi mere andar
Ek lehar se kya toofan utha sakta tha main
Kahin kahin se kuchh misre, ek aadh ghazal, kuchh sher
Is poonji par kitna shor macha sakta tha main
Jaise sab likhte rehte hain ghazlen nazmen geet
Waise likh likh kar ambaar laga sakta tha main

شاعر کے بارے میں

افتخارعارف

اردو کے عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف 21 مارچ 1943 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے وہاں کے روایتی علمی ماحول۔فرنگی محل کے...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام