ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے
میرے لوگوں نے کھو دیا ہے مجھے
اس لئے بھی مجھے عزیز ہے تو
کم سے کم زخم تو دیا ہے مجھے
اب کے اشکوں میں تیرا غم بھی گیا
اب کی بارش نے دھو دیا ہے مجھے
دھڑکنیں اور کسی کے واسطے ہیں
تو یہ دل نام کو دیا ہے مجھے
آج تو میرا ہنسنا بنتا ہے
آج تو وہ بھی رو دیا ہے مجھے
Ek sehra mein bo diya hai mujhe
Mere logon ne kho diya hai mujhe
Is liye bhi mujhe azeez hai tu
Kam se kam zakhm to diya hai mujhe
Ab ke ashkon mein tera gham bhi gaya
Ab ki barish ne dho diya hai mujhe
Dhadkanen aur kisi ke waaste hain
Tu yeh dil naam ko diya hai mujhe
Aaj to mera hansna banta hai
Aaj to woh bhi ro diya hai mujhe
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...
مکمل تعارف پڑھیں