زمانے کے لیے بہرے ہوئے تھے ہم دونوں
تو دیر تک کہیں ٹھہرے ہوئے تھے ہم دونوں
ہم ایک دوسرے کے دل پہ چڑھ گئے تو دکھا
کئی نگاہوں سے اترے ہوئے تھے ہم دونوں
کوئی ہماری تہوں تک پہنچ سکا ہی نہیں
سمندروں سے بھی گہرے ہوئے تھے ہم دونوں
پھر ایک دوسرے کو گولی مار دی ہم نے
ہر ایک سمت سے گھیرے ہوئے تھے ہم دونوں
Zamaane ke liye behre hue the hum dono
To der tak kahin thehre hue the hum dono
Hum ek doosre ke dil pe chadh gaye to dikha
Kai nigaahon se utre hue the hum dono
Koi hamari tahon tak pahunch saka hi nahin
Samandaron se bhi gehre hue the hum dono
Phir ek doosre ko goli maar di hum ne
Har ek simt se ghere hue the hum dono
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...
مکمل تعارف پڑھیں