ہر ایک شخص جہاں انتقام لے رہا تھا
وہاں میں صبر و تحمل سے کام لے رہا تھا
دیوانگی کا سبب پوچھا جا رہا تھا مری
میں چپ تھا اور ہجوم اس کا نام لے رہا تھا
وہ جن کا سوچ کے شہزادے خوف کھا رہے تھے
وہ فیصلے تو تمہارا غلام لے رہا تھا
Har ek shakhs jahaaN intiqam le raha tha
Wahan main sabr-o-tahammul se kaam le raha tha
Deewangi ka sabab poocha ja raha tha meri
Main chup tha aur hujoom us ka naam le raha tha
Woh jin ka soch ke shehzade khauf kha rahe the
Woh faisle to tumhara ghulam le raha tha
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...
مکمل تعارف پڑھیں