اسماعیل راز — شاعر کی تصویر

ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا — اسماعیل راز

شاعر

تعارف شاعری

ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا

ہجرت کا ارادہ تو ہمارا بھی نہیں تھا
پر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا
دو بول بھی میٹھے نہیں تھے ہم کو میسر
یعنی ہمیں تنکے کا سہارا بھی نہیں تھا
اس وقت کے صدموں نے مجھے چاٹ لیا ہے
جو وقت ابھی میں نے گزارا بھی نہیں تھا
کیا دن تھے کہ غم ہو کہ خوشی دوست کہ دشمن
جو تیرا نہیں تھا وہ ہمارا بھی نہیں تھا
اس شخص نے زندہ بھی نہیں چھوڑا تھا مجھ کو
حالانکہ مجھے جان سے مارا بھی نہیں تھا

Hijrat ka iraada to hamara bhi nahin tha

Hijrat ka iraada to hamara bhi nahin tha
Par us ke ilawa koi chaara bhi nahin tha
Do bol bhi meethe nahin the hum ko mayassar
Ya'ni hamein tinke ka sahara bhi nahin tha
Us waqt ke sadmon ne mujhe chaaT liya hai
Jo waqt abhi main ne guzara bhi nahin tha
Kya din the ke gham ho ke khushi dost ke dushman
Jo tera nahin tha woh hamara bhi nahin tha
Us shakhs ne zinda bhi nahin chhoDa tha mujh ko
Haalanke mujhe jaan se mara bhi nahin tha

شاعر کے بارے میں

اسماعیل راز

اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام