اسماعیل راز — شاعر کی تصویر

جام پر جام پیے جائیں گے ہم — اسماعیل راز

شاعر

تعارف شاعری

جام پر جام پیے جائیں گے ہم

جام پر جام پیے جائیں گے ہم
اور ترا نام لیے جائیں گے ہم
اتنے بوسیدہ ہیں پھٹتے رہیں گے
یار جتنا بھی سیے جائیں گے ہم
چھپکلی سامنے آئے گی اور
ہاتھ سے چھوڑ دیے جائیں گے ہم
اس بھرم میں نہیں کھونا ہم کو
چاہے جب ڈھونڈ لیے جائیں گے ہم

Jaam par jaam piye jaayenge hum

Jaam par jaam piye jaayenge hum
Aur tera naam liye jaayenge hum
Itne boseeda hain phaTte rahenge
Yaar jitna bhi siye jaayenge hum
Chhipkali saamne aayegi aur
Haath se chhoD diye jaayenge hum
Is bharam mein nahin khona hum ko
Chaahe jab DhoonD liye jaayenge hum

شاعر کے بارے میں

اسماعیل راز

اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام