نہ چاہتے ہوئے ہونٹوں کو کھول لیتے ہیں
جھنجھوڑتا کوئی اندر تو بول لیتے ہیں
ہم ایسوں کو نہیں راس آتیں مفت کی چیزیں
ہم ایسے لوگ مصیبت بھی مول لیتے ہیں
زیادہ دیر نہیں لگتی اب سمجھنے میں
دو چار باتوں میں لوگوں کو تول لیتے ہیں
یہاں تو دستکوں پر در بھی کھولتے نہیں لوگ
ہمارے گاؤں میں تو دل بھی کھول لیتے ہیں
Na chahte hue honton ko khol lete hain
Jhanjhodta koi andar to bol lete hain
Hum aison ko nahin raas aatin muft ki cheezen
Hum aise log museebat bhi mol lete hain
Ziyada der nahin lagti ab samajhne mein
Do chaar baaton mein logon ko tol lete hain
Yahan to dastakon par dar bhi kholte nahin log
Hamare gaon mein to dil bhi khol lete hain
اسماعیل راز عصرِ حاضر کے نوجوان اردو شاعر ہیں جنہوں نے جدید حسیت اور داخلی شعور کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ وہ 1993ء میں واشم، بھارت میں پی...
مکمل تعارف پڑھیں