خالد احمد — شاعر کی تصویر

خالد احمد کا تعارف، احوال زندگی اور سرگزشت

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

خالد احمد جدید اردو شاعری کے اُن اہم اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل، نثر، تنقید اور ڈرامہ نگاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ 5 جون 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز ادبی گھرانے سے تھا؛ معروف افسانہ نگار خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور ان کی بہنیں تھیں، جبکہ ان کے والد محمد مصطفیٰ خان "مدّاح" بھی ادبی ذوق رکھتے تھے۔ خالد احمد نے مسلم ماڈل ہائی اسکول لاہور سے میٹرک، دیال سنگھ کالج سے بی ایس سی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے طبیعیات میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد واپڈا میں ملازمت اختیار کی اور ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے تک پہنچے۔

خالد احمد کی ادبی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے، مگر کالم نگاری، تنقید اور ڈرامہ نویسی میں بھی ان کا نمایاں مقام ہے۔ انہوں نے روزنامہ امروز، جنگ اور نوائے وقت میں "لمحہ لمحہ" کے عنوان سے کالم لکھے اور طویل عرصے تک ادبی جریدہ "بیاض" کی ادارت و اشاعت کے ذریعے اردو ادب کی خدمت کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں تشبیب، ہتھیلیوں پر چراغ، پہلی صدا پرندے کی، ایک مٹھی ہوا، دراز پلکوں کے سائے سائے اور نم گرفتہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت، انسانی رشتوں، داخلی کرب اور سماجی شعور کی نہایت دل نشین اور پختہ ترجمانی ملتی ہے۔

خالد احمد کو جدید اردو غزل کے اہم نمائندہ شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور غزل "ترکِ تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں" نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی اور بعد ازاں ڈرامہ "ہمسفر" کے ذریعے نئی نسل تک بھی پہنچی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1999ء میں اقبال ایوارڈ اور 2011ء میں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد 19 مارچ 2013ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا، تاہم ان کی شاعری، تنقیدی بصیرت اور ادبی خدمات اردو ادب کے سرمائے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔