مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے
یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر
تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے
تعلق کو نہ سمجھو جاودانی
یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے
ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے
پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے
Meri aankhon mein darya jhoolta hai
Yh pani ab kinara dhoondta hai
Yh pani ret ki teh se guzar kar
Taluq hai to rasta dhoondta hai
Taluq ko na samjho jawidani
Yh aaina hawa se toot'ta hai
Hamari pyaas rukhsat chahti hai
Piyala haath se ab chhoot'ta hai
کشور ناہید اردو ادب کی اُن توانا اور باوقار آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے شاعری کو محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماجی شعور، مزاحمت اور نسائی خو...
مکمل تعارف پڑھیں