عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھا جائے ہے سحر سے آہ
رات گزرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
برقعہ اٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے
کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر
Umar bhar ham rahe sharabi se
Dil par khoon ki ek gulabi se
Ji dha jaye hai sahar se aah
Raat guzregi kis kharabi se
Khulna kam kam kali ne seekha hai
Us ki aankhon ki neem-khwabi se
Burqa uthte hi chand sa nikla
Dagh hoon us ki be-hijabi se
Kaam the ishq mein bahut par Meer
Ham hi farigh hue shitabi se
اردو شاعری کے عظیم شاعر میر محمد تقی میرؔ 1723 میں آگرہ میں پیدا ہوئے اور والد میر متقی کی علمی و صوفیانہ تربیت میں پرورش پائی۔ بچپن ہی میں والد کے انتقال اور بعد میں دہلی کی تباہیوں نے ان کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ تعلیم میں فارسی، عربی اور منطق کے علوم میں مہارت حاصل کی، اور عشق و تصوف کے اسرار سے باخبر ہوئے۔ میرؔ کی ازدواجی زندگی بھی د...
مکمل تعارف پڑھیں