ہوا نے آکے مجھے مژدہ رہائی دیا
قفس کو کھولئے والا نہیں دکھائی دیا
اوہ بے وفا تیری نسلیں خراب ہو جائیں
مجھ جیسے شخص کو الزامِ بے وفائی دیا
جو بچہ بھوک سے رو رو کےمرنے والا تھا
وہ کھلکھلا کے ہنسا تو خدا سنائی دیا
راکب مختار
Hawa ne aake mujhe muzhda rihai diya
Qafas ko kholiye wala nahi dikhai diya
Oh bewafa teri naslein kharab ho jaayen
Mujh jaise shakhs ko ilzam-e-bewafai diya
Jo bachcha bhook se ro ro ke marne wala tha
Wo khilkhila ke hansa to khuda sunai diya
راکب مختار جن کا اصل نام عابد حسین ہے، 22 جنوری 1987 کو تحصیل شور کوٹ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے
مکمل تعارف پڑھیں