ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
غزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا
مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہے
کہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا
بھلا وہ حسن کس کی دسترس میں آ سکا ہے
کہ ساری عمر بھی لکھیں مقالہ کم رہے گا
بہت سے دکھ تو ایسے بھی دیے تم نے کہ جن کا
مداوا ہو نہیں سکتا ازالہ کم رہے گا
وہ چاندی کا ہو سونے کا ہو یا پھر ہو لہو کا
سلیمؔ اہل ہوس کو ہر نوالہ کم رہے گا
Abhi hairat ziyada aur ujala kam rahe ga
Ghazal mein ab ke bhi tera hawala kam rahe ga
Meri wehshat pe sehra tang hota ja raha hai
Kaha to tha yeh aangan la-mahala kam rahe ga
Bhala woh husn kis ki dastaras mein aa saka hai
Ke saari umar bhi likhein muqala kam rahe ga
Bahut se dukh to aise bhi diye tum ne ke jin ka
Madawa ho nahin sakta izala kam rahe ga
Woh chandi ka ho, sone ka ho ya phir ho lahoo ka
Saleem, ahl-e-hawas ko har niwala kam rahe ga
سلیم کوثر، جن کا اصل نام محمد سلیم ہے، 24 اکتوبر 1947 کو بھارت کے شہر پانی پت میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا اور خ...
مکمل تعارف پڑھیں