اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئنہ ہو جاؤں گا
اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں
میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا
مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر
راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا
ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا
اک ترے کہنے سے کیا میں بے وفا ہو جاؤں گا
Apne har har lafz ka khud aayina ho jaunga
Is ko chhota keh ke main kaise bada ho jaunga
Tum girane mein lage the tum ne socha hi nahin
Main gira to masla ban kar khada ho jaunga
Mujh ko chalne do akela hai abhi mera safar
Rasta roka gaya to qafla ho jaunga
Saari duniya ki nazar mein hai mera ahd-e-wafa
Ek tere kehne se kya main bewafa ho jaunga
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں