میں تم سے چھوٹ رہا ہوں مرے پیارو
مگر مرا رشتہ پختہ ہو رہا ہے اس زمیں سے
جس کی گود میں سمانے کے لئے
میں نے پوری زندگی ریہرسل کی ہے
کبھی کچھ کھو کر کبھی کچھ پا کر
کبھی ہنس کر کبھی رو کر
پہلے دن سے مجھے اپنی منزل کا پتہ تھا
اسی لئے میں کبھی زور سے نہیں چلا
اور جنہیں زور سے چلتے دیکھا
ترس کھایا ان کی حالت پر
اس لئے کہ وہ جانتے ہی نہ تھے
کہ وہ کیا کر رہے ہیں
Main tum se chhoot raha hoon mere pyaaro
Magar mera rishta pukhta ho raha hai is zameen se
Jiski god mein samane ke liye
Main ne poori zindagi rehearsal ki hai
Kabhi kuch kho kar kabhi kuch paa kar
Kabhi hans kar kabhi ro kar
Pehle din se mujhe apni manzil ka pata tha
Isi liye main kabhi zor se nahin chala
Aur jinhein zor se chalte dekha
Taras khaya unki halat par
Is liye ke woh jaante hi na the
Ke woh kya kar rahe hain
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں