بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے
ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے
ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہ
ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے
انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے
یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے
انہیں قریب نہ ہونے دیا کبھی میں نے
جو دوستی میں حدیں بھول جانے والے تھے
میں جن کو جان کے پہچان بھی نہیں سکتا
کچھ ایسے لوگ مرا گھر جلانے والے تھے
ہمارا المیہ یہ تھا کہ ہم سفر بھی ہمیں
وہی ملے جو بہت یاد آنے والے تھے
وسیمؔ کیسی تعلق کی راہ تھی جس میں
وہی ملے جو بہت دل دکھانے والے تھے
Bhala ghamon se kahan haar jaane wale the
Hum aansuon ki tarah muskurane wale the
Hamein ne kar diya elaan-e-gumrahi varna
Hamare pichhe bahut log aane wale the
Inhen to khak mein milna hi tha ke mere the
Yeh ashk kaun se unche gharane wale the
Inhen qareeb na hone diya kabhi main ne
Jo dosti mein hadein bhool jaane wale the
Main jin ko jaan ke pehchan bhi nahin sakta
Kuch aise log mera ghar jalane wale the
Hamara almiya yeh tha ke humsafar bhi hamein
Wahi mile jo bahut yaad aane wale the
Wasim kaisi ta'alluq ki rah thi jismein
Wahi mile jo bahut dil dukhane wale the
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں