وسیم بریلوی — شاعر کی تصویر

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا — وسیم بریلوی

شاعر

تعارف شاعری

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا
ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا
پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات
کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا
گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری
میں ہوں کہ چراغوں کو بجھا بھی نہیں سکتا
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے
ایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا

Kya dukh hai samundar ko bata bhi nahin sakta

Kya dukh hai samundar ko bata bhi nahin sakta
Aansu ki tarah aankh tak aa bhi nahin sakta
Tu chhod raha hai to khata is mein teri kya
Har shakhs mera saath nibha bhi nahin sakta
Pyase rahe jaate hain zamane ke sawalaat
Kis ke liye zinda hoon bata bhi nahin sakta
Ghar dhoondh rahe hain mera raaton ke pujari
Main hoon ke charaghon ko bujha bhi nahin sakta
Waise to ek aansu hi baha kar mujhe le jaaye
Aise koi toofan hila bhi nahin sakta

شاعر کے بارے میں

وسیم بریلوی

پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام