وسیم بریلوی — شاعر کی تصویر

مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا — وسیم بریلوی

شاعر

تعارف شاعری

مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا

مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا
کہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والا
ہماری جان گئی جائے دیکھنا یہ ہے
کہیں نظر میں نہ آ جائے مارنے والا
بس ایک پیار کی بازی ہے بے غرض بازی
نہ کوئی جیتنے والا نہ کوئی ہارنے والا
بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے
شراب خانے میں راتیں گزارنے والا
میں اس کا دن بھی زمانے میں بانٹ کر رکھ دوں
وہ میری راتوں کو چھپ کر گزارنے والا
وسیمؔ ہم بھی بکھرنے کا حوصلہ کرتے
ہمیں بھی ہوتا جو کوئی سنوارنے والا

Meri wafaon ka nasha utarne wala

Meri wafaon ka nasha utarne wala
Kahan gaya mujhe hans hans ke haarne wala
Hamari jaan gayi jaaye dekhna ye hai
Kahin nazar mein na aa jaaye marne wala
Bas ek pyar ki baazi hai be-gharaz baazi
Na koi jeetne wala na koi haarne wala
Bhare makan ka bhi apna nasha hai kya jaane
Sharabkhane mein raaten guzarne wala
Main us ka din bhi zamane mein baant kar rakh doon
Woh meri raaton ko chhup kar guzarne wala
Waseem hum bhi bikharne ka hausla karte
Hamein bhi hota jo koi sanwarne wala

شاعر کے بارے میں

وسیم بریلوی

پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام