وسیم بریلوی — شاعر کی تصویر

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں — وسیم بریلوی

شاعر

تعارف شاعری

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں

شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
پھر وہی تلخئ حالات مقدر ٹھہری
نشے کیسے بھی ہوں کچھ دن میں اتر جاتے ہیں
اک جدائی کا وہ لمحہ کہ جو مرتا ہی نہیں
لوگ کہتے تھے کہ سب وقت گزر جاتے ہیں
گھر کی گرتی ہوئی دیواریں ہی مجھ سے اچھی
راستہ چلتے ہوئے لوگ ٹھہر جاتے ہیں
ہم تو بے نام ارادوں کے مسافر ہیں وسیمؔ
کچھ پتہ ہو تو بتائیں کہ کدھر جاتے ہیں

Sham tak subh ki nazron se utar jaate hain

Sham tak subh ki nazron se utar jaate hain
Itne samjhauton pe jeete hain ke mar jaate hain
Phir wahi talkhi-e-halaat muqaddar thehri
Nashe kaise bhi hon kuch din mein utar jaate hain
Ek judai ka woh lamha ke jo marta hi nahin
Log kehte the ke sab waqt guzar jaate hain
Ghar ki girti hui deewaren hi mujh se achhi
Rasta chalte hue log thehar jaate hain
Hum to be-naam iradon ke musafir hain Waseem
Kuch pata ho to batayen ke kidhar jaate hain

شاعر کے بارے میں

وسیم بریلوی

پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام