وسیم بریلوی — شاعر کی تصویر

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے — وسیم بریلوی

شاعر

تعارف شاعری

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے
ہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گے
ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرح
ہم کوئی شور نہیں ہیں جو سنائی دیں گے
فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف
آپ کیا صاحب عدالت میں صفائی دیں گے
پچھلی صف میں ہی سہی ہے تو اسی محفل میں
آپ دیکھیں گے تو ہم کیوں نہ دکھائی دیں گے

Tu samajhta hai ke rishton ki duhai denge

Tu samajhta hai ke rishton ki duhai denge
Hum to woh hain tere chehre se dikhai denge
Hum ko mehsoos kiya jaaye hai khushboo ki tarah
Hum koi shor nahin hain jo sunai denge
Faisla likha hua rakha hai pehle se khilaf
Aap kya sahib-e-adaalat mein safai denge
Pichhli saff mein hi sahi hai to isi mahfil mein
Aap dekhenge to hum kyun na dikhai denge

شاعر کے بارے میں

وسیم بریلوی

پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام