تجھ کو سوچا تو پتا ہو گیا رسوائی کو
میں نے محفوظ سمجھ رکھا تھا تنہائی کو
جسم کی چاہ لکیروں سے ادا کرتا ہے
خاک سمجھے گا مصور تری انگڑائی کو
اپنی دریائی پہ اترا نہ بہت اے دریا
ایک قطرہ ہی بہت ہے تری رسوائی کو
چاہے جتنا بھی بگڑ جائے زمانے کا چلن
جھوٹ سے ہارتے دیکھا نہیں سچائی کو
ساتھ موجوں کے سبھی ہوں جہاں بہنے والے
کون سمجھے گا سمندر تری گہرائی کو
اپنی تنہائی بھی کچھ کم نہ تھی مصروف وسیمؔ
اس لیے چھوڑ دیا انجمن آرائی کو
Tujh ko socha to pata ho gaya ruswaai ko
Main ne mehfooz samajh rakha tha tanhaai ko
Jism ki chaah lakeeron se ada karta hai
Khaak samjhe ga musawwir teri angraai ko
Apni daryai pe itra na bahut ae darya
Ek qatra hi bahut hai teri ruswaai ko
Chaahe jitna bhi bigad jaaye zamane ka chalan
Jhoot se haarte dekha nahin sachchaai ko
Saath maujon ke sabhi hon jahan behne wale
Kaun samjhe ga samandar teri gehraai ko
Apni tanhaai bhi kuch kam na thi Masroof Wasim
Is liye chhod diya anjuman aaraai ko
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں