تم ساتھ نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگتا
اس شہر میں کیا ہے جو ادھورا نہیں لگتا
سینہ سے لپٹتے ہی پلٹ جانے پہ خوش ہیں
لہروں کو کناروں پہ بھروسا نہیں لگتا
خود غرض بنا دیتی ہے شدت کی طلب بھی
پیاسے کو کوئی دوسرا پیاسا نہیں لگتا
ہر سال نئے پتے بدل دیتے ہیں تیور
بوڑھا ہے مگر پیڑ پرانا نہیں لگتا
Tum saath nahin ho to kuch achha nahin lagta
Is shahr mein kya hai jo adhūra nahin lagta
Sīna se lipat'te hi palat jaane pe khush hain
Lahron ko kinaron pe bharosa nahin lagta
Khud gharaz bana deti hai shiddat ki talab bhi
Pyase ko koi doosra pyasa nahin lagta
Har saal naye patte badal dete hain tewar
Boṛha hai magar peṛ purana nahin lagta
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں