وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہے
جو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے
مجھے دیکھو کہ میں اس کو ہی چاہوں
جسے سارا زمانہ چاہتا ہے
قلم کرنا کہاں ہے اس کا منشا
وہ میرا سر جھکانا چاہتا ہے
شکایت کا دھواں آنکھوں سے دل تک
تعلق ٹوٹ جانا چاہتا ہے
تقاضہ وقت کا کچھ بھی ہو یہ دل
وہی قصہ پرانا چاہتا ہے
Woh mujh ko kya batana chahta hai
Jo duniya se chhupana chahta hai
Mujhe dekho ke main us ko hi chahoon
Jise sara zamana chahta hai
Qalam karna kahan hai us ka mansha
Woh mera sar jhukana chahta hai
Shikayat ka dhuan aankhon se dil tak
Ta'alluq toot jaana chahta hai
Taqaza waqt ka kuch bhi ho ye dil
Wahi qissa purana chahta hai
پروفیسر وسیم بریلوی، جن کا اصل نام زاہد حسین ہے، 8 فروری 1940ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ وہ عہدِ حاضر کے ممتاز اور ہم...
مکمل تعارف پڑھیں