آنسو دھانی ہو جاتے ہیں
آنچل پانی ہو جاتے ہیں
تیری چاہ میں مرنے والے
لوگ کہانی ہو جاتے ہیں
کچھ ایسے بھی چہرے ہیں جو
یاد زبانی ہو جاتے ہیں
کھیل وہ کھیلیں؟ جس میں ہم تم
راجہ رانی ہو جاتے ہیں
آوازیں گم ہو جاتی ہیں
حرف نشانی ہو جاتے ہیں
زین چلو ہم خاموشی سے
بات پرانی ہو جاتے ہیں
aansu dhaani ho jate hain
aanchal pani ho jate hain
teri chah mein marne wale
log kahani ho jate hain
kuchh aise bhi chehre hain jo
yaad zabani ho jate hain
khel woh khelen? jis mein hum tum
raja rani ho jate hain
awazen gum ho jati hain
harf nishani ho jate hain
zain chalo hum khamoshi se
baat purani ho jate hain
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...
مکمل تعارف پڑھیں