زین شکیل — شاعر کی تصویر

درد آزاد ہونے والا ہے — زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

درد آزاد ہونے والا ہے

درد آزاد ہونے والا ہے
ہجر آباد ہونے والا ہے
اس سے کہہ دو ذرا ٹھہر جائے
وہ مجھے یاد ہونے والا ہے
چھوڑ کر دور جا رہے ہو تم
کوئی برباد ہونے والا ہے
زلف اس کی سنورنے والی ہے
قابلِ داد ہونے والا ہے
روح میری ادھڑنے والی ہے
زخم ایجاد ہونے والا ہے
لگ رہا ہے مجھے کہ وہ اِمشب
محوِ فریاد ہونے والا ہے

Dard azaad hone wala hai

Dard azaad hone wala hai
Hijr aabaad hone wala hai
Us se keh do zara thehar jaaye
Woh mujhe yaad hone wala hai
Chhod kar door ja rahe ho tum
Koi barbaad hone wala hai
Zulf us ki sanwarnay wali hai
Qabil-e-daad hone wala hai
Rooh meri udhernay wali hai
Zakhm ijaad hone wala hai
Lag raha hai mujhe ke woh imshab
Mahv-e-faryaad hone wala hai

شاعر کے بارے میں

زین شکیل

زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام